17 جولائی 2010 - 19:30

ڈاکٹر احمدی نژاد نے اپنی تقریر میں امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسرائیل کو "صہیونی ریاست" کہا مگر اجلاس کے شرکاء نے ان کی تأئید کی اور ان کے موقف کو سراہا جس کی وجہ سے فاکس نیوز غضبناک ہوا!!

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق نیویارک کے اجلاس میں ڈاکٹر احمدی نژاد نے امریکہ پر نکتہ چینی کی اور اسرائیل کو صہیونی ریاست کہہ کر پکارا مگر اجلاس کے شرکاء نے ان کی تأیید کردی اور ان کے موقف کو سراہا اور ایران کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں  سے انکار کیا۔ امریکی حلقوں  ـ بالخصوص فاکس نیوز جیسے اسرائیل نواز اداروں  کو توقع تھی کہ ان کا پرانا دعوی حقیقی صورت اپنائے اور دنیا والے امریکیوں کا ساتھ دے کر احمدی نژاد کے موقف کو مسترد کردیں مگر دنیا والوں نے ان کے موقف کی تصدیق کردی اور یہ بات فاکس نیوز سمیت دیگر صہیونیت نواز قوتوں  کے غیظ و غضب کا سبب بنی۔ فاکس نیوز نے دعوی کیا کہ وہ صدر جن کا ایٹمی پروگرام پوری دنیا کے لئے باعث تشویش ہے، کل نیویارک میں تھے۔ انھوں  نے ایران کی طرف سے ایٹمی ہتھیار بنانے کے لئے کسی بھی قسم کی کوشش کا انکار کیا اور امریکہ کہ مذمت کی کہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیاروں  کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ انھوں  نے کہا کہ کوئی بھی ثبوت موجود نہیں ہے جو یہ ثابت کرسکے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ انھوں  نے یہ بھی کہہ دیا کہ "امریکہ کو ایٹمی ہتھیاروں  کا بہت بڑا ذخیرہ رکھنے کے جرم میں سزا ملنی چاہئے"۔انھوں  نے کہا: ایٹمی ہتھیار دفاعی ہتھیار سے زیادہ انسانیت کے مستقبل کے لئے آگ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ایٹمی ہتھیار نہ صرف فخر و اعزاز کا باعث نہیں ہیں بلکہ شرمناک اور نفرت انگیز ہیں۔ فیکس نیوز نے اپنے رپورٹر کے زبانی مزید دعوی کیا کہ این پی ٹی کا معاہدہ ایران کی طرف سے سلامتی کونسل کی تین قراردادوں  کو نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے مخدوش ہوگیا ہے اور یہ تین قراردادیں ایران سے مطالبہ کرتی ہیں کہ یورینیم کی افزودگی کا عمل فوری طور پر بند کرے اور پورا پورا تعاون کرے۔ اس رپورٹ کے مطابق اس اجلاس میں 189 ممالک کے وفود موجود تھی اور امریکی، برطانوی اور فرانسیسی وفود نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور ہلیری کلنٹن نے اپنی تقریر میں الزام لگایا کہ ایران دنیا کو دھوکا دینا چاہتا ہے۔ فاکس نیوز نے کے نامہ نگار نے سابق امریکی نائب وزیر خارجہ جان بولٹن کے حوالے سے کہا کہ احمدی نژاد نے اس اجلاس میں اپنے تمام اہداف حاصل کرلئے ہیں۔ جان بولٹن کا کہنا تھا: "احمدی نژاد کا جادوگرانہ حملہ ایران کے لئے بہت اچھا تھا؛ ظاہر ہے کہ ان کی باتیں بعض لوگوں کے لئے اذیت و آزار دیتی ہیں مگر انھوں  نے بہت ہی قوی نکات کی طرف اشارہ کیا جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تھے اور انھوں  نے امریکہ اور اسرائیل کو ایٹمی ہتھیاروں کی حوالے سے قصور وار قرار دیا اور ان کی یہ ساری باتیں قائل کردینے والی تھیں۔ ............/110